تعارف
خداوند متعال اور اس کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک قرآن مجید کی اہمیت بے پایاں ہے تاہم دورِ حاضر کی انسانی زندگی میں قرآنی علوم سے عدم توجہی کے مظاہر بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں جو کہ ہماری بد قسمتی ہے۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ قرآنی علوم کے مختلف زاویوں مثلاً حسن قرأت ، تجوید، حفظ، تلاوت، مفاہیم ، ترجمہ اور تفسیر کے حوالے سے جس وسیع پیمانے پر کام ہونا چاہیے تھا آج اس کا عشر عشیربھی نہیں ہو پا رہا حالانکہ قرآن مجید اپنی بے پناہ برکات ہمہ پہلو صفات اور خصوصی جاذبیت کی حامل ایک ایسی کتاب ہے جس کا کما حقہ حق ادا کرنا ہم جیسے انسانوں کے لیے بہت مشکل ہے۔ اس لیے کہ انسانی بساط علم و فکر محدود ہے کہ جبکہ قرآن کی وسعت ِ حکمت لا محدود ہے۔
ترویج ِ تعلیمات قرآن میں سب بڑی رکاوٹ خود ہماری کوتاہی ہے۔ اس سستی اور غفلت کے سبب خدا نہ کرے کہ روز قیامت قرآن ہماری شفاعت کی بجائے شکایت کا وسیلہ بن جائے۔ پس یہی احساس ایک عرصے سے ملت کے کچھ علمائے کرام اور صاحبِ درد افراد کے اذہان میں پنپ رہاتھا۔
ایسے میں کچھ کر گزرنے کی اس کیفیت کااحوال جب محسن ملت مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی مد ظلہ کے علم میں آیا تو آپ نے فوری اقدام فر مایااور اپنی گوناگوں مذہبی، ملی و فلاحی مصروفیات کے باوجود مدرسہ حفظ القرآن کے لیے بطور خاص زحمات فرمائیں جس کے نتیجے میں بحمد للہ آج یہ عظیم الشان ادارہ عمدہ کارکردگی کی منازل نہایت کامیابی کے ساتھ طے کر رہا ہے۔ہم جناب علامہ آقائ شیخ علی مہدی صاحب قبلہ رکن مجلس الشیعی الاعلیٰ لبنان کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اس مدرسے کی خوبصورت عمارت کی تعمیر کروائی۔
مدرسہ حفظ القرآن اسکردو حفظ قرآن کی تکمیل کے ساتھ ساتھ مروّجہ علوم کے میدان میں بھی پیش پیش ہے اور اس طرح علوم قرآنی و مروّجہ تعلیم کے حوالے سے جو خلا ء معاشرے میں موجود ہے اسے پر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ہم اس سلسلے میں تمام علمائے کرام دانشورانِ قوم اور صاحبِ درد افرادِ ملت الخصوص محسنِ ملت مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی مد ظلہ کے شکر گزار ہیں اور ان کی توفیقات میں اضافے کے لیے دعا گو ہیں۔
پرنسپل
مدرسہ حفاظ القرآن سکردو


